Sahih Al-Bukhari
Hadees Number 7
Humein hadees sunayi Abul-Yaman Al-Hakam bin Nafi' ne, unhone kaha humein khabar di Shu'aib ne, unhone Zuhri se, unhone kaha mujhe khabar di Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah bin Mas'ud ne, ke Abdullah bin Abbas ne unhein khabar di, ke Abu Sufyan bin Harb ne unhein khabar di:
Faida (Tashreeh):
Abu Sufyan ne Rasulullah (S.A.W) ko Abu Kabsha ki taraf mansub kiya hai ke Ibn Abi Kabsha ka mamla to bahut badh gaya hai. Dar-asal Arab ka ye tariqa hai ke kisi ki tehqeer-o-istehza (mazaq udana) ke pesh-e-nazar use aise shakhs ki taraf mansub kar dete hain jo gumnam ho.
Lekin is maqam par asal baat ye hai ke Arab mein Abu Kabsha naami ek shakhs bhi guzra tha jis ne apna aabayi deen chhod kar "She'ra" sitare ki parastish shuru kar di thi. Chunki Abu Kabsha ne ek naya deen ikhtiyar kiya tha, is liye har wo shakhs jo Arab ke aabayi deen se hat kar koi naya deen ikhtiyar karta, use Ibn Abi Kabsha ke naam se yaad kiya jata tha. Is silsile mein kuch aur taweelaat bhi ki gayi hain, in tamam mein qadar-e-mushtarik yahi hai ke Abu Sufyan ne mazaq aur hiqarat se ye usloob ikhtiyar kiya.
Lekin is maqam par asal baat ye hai ke Arab mein Abu Kabsha naami ek shakhs bhi guzra tha jis ne apna aabayi deen chhod kar "She'ra" sitare ki parastish shuru kar di thi. Chunki Abu Kabsha ne ek naya deen ikhtiyar kiya tha, is liye har wo shakhs jo Arab ke aabayi deen se hat kar koi naya deen ikhtiyar karta, use Ibn Abi Kabsha ke naam se yaad kiya jata tha. Is silsile mein kuch aur taweelaat bhi ki gayi hain, in tamam mein qadar-e-mushtarik yahi hai ke Abu Sufyan ne mazaq aur hiqarat se ye usloob ikhtiyar kiya.
ہم سے ابوالیمان الحکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی، کہ عبداللہ بن عباس نے انہیں خبر دی، کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی:
کہ ہرقل (شاہِ روم) نے انہیں قریش کی ایک جماعت سمیت بلوایا۔ یہ جماعت (صلح حدیبیہ کے تحت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفارِ قریش کے درمیان طے شدہ عرصہ امن میں ملک شام بغرضِ تجارت گئی ہوئی تھی۔ یہ لوگ ایلیاء (بیت المقدس) میں اس کے پاس حاضر ہو گئے۔
ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلایا۔ اس وقت اس کے گرد روم کے رئیس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا: "یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے؟"
ابوسفیان نے کہا: "میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔"
تب ہرقل نے کہا: "اسے میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پسِ پشت بٹھاؤ۔"
اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: "ان سے کہو کہ میں اس شخص سے اس آدمی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق سوالات کروں گا، اگر یہ غلط بیانی کرے تو تم لوگوں نے اسے جھٹلا دینا ہے۔"
(ابوسفیان کہتے ہیں): اللہ کی قسم! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ کے متعلق یقیناً جھوٹ بولتا۔
ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ:
ہرقل کا تجزیہ:
ہرقل نے کہا: "میں نے نسب پوچھا، تم نے کہا اونچا ہے۔ پیغمبر ہمیشہ اونچے نسب میں بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا پہلے کسی نے یہ بات کہی؟ تم نے کہا نہیں۔ اگر ہوتی تو میں کہتا یہ نقالی ہے۔ میں نے پوچھا کیا کوئی بادشاہ گزرا؟ تم نے کہا نہیں۔ ورنہ میں کہتا وہ بادشاہت کا طالب ہے۔ میں نے پوچھا کیا وہ جھوٹ بولتا تھا؟ تم نے کہا نہیں۔ جو بندوں پر جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر کیسے بولے گا؟ میں نے پوچھا کیا کوئی مرتد ہوتا ہے؟ تم نے کہا نہیں۔ ایمان کی خوشی جب دل میں سما جائے تو نہیں نکلتی۔
اگر تمہاری باتیں سچ ہیں تو وہ جلد اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جہاں میرے قدم ہیں۔ کاش میں اس کے پاس جا سکتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔"
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خط:
پھر خط منگوایا گیا جس میں لکھا تھا:
"شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے ہرقل عظیمِ روم کے نام۔ اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہو جا محفوظ رہے گا۔ اگر نہ مانا تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہو گا۔۔۔"
ابنِ ناطور کا بیان:
ابنِ ناطور کہتا ہے کہ ہرقل نجومی تھا۔ اس نے ستاروں میں دیکھا کہ "ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ظاہر ہو چکا ہے۔" پھر اسے معلوم ہوا کہ عرب ختنہ کرتے ہیں۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی وہ نبی ہیں، تو اس نے روم کے سرداروں کو جمع کیا اور کہا: "اے رومیو! اگر کامیابی چاہتے ہو تو اس نبی کی بیعت کر لو۔"
وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بھاگے لیکن دروازے بند تھے۔ ہرقل نے انہیں واپس بلایا اور کہا: "میں تو صرف تمہارا امتحان لے رہا تھا۔" تب انہوں نے اسے سجدہ کیا اور راضی ہو گئے۔
ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلایا۔ اس وقت اس کے گرد روم کے رئیس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر اس نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلا کر کہا: "یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے؟"
ابوسفیان نے کہا: "میں اس کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔"
تب ہرقل نے کہا: "اسے میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پسِ پشت بٹھاؤ۔"
اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: "ان سے کہو کہ میں اس شخص سے اس آدمی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق سوالات کروں گا، اگر یہ غلط بیانی کرے تو تم لوگوں نے اسے جھٹلا دینا ہے۔"
(ابوسفیان کہتے ہیں): اللہ کی قسم! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ کے متعلق یقیناً جھوٹ بولتا۔
ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہ:
ہرقل: "تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے؟"
ابوسفیان: "وہ ہم میں اونچے نسب والا ہے۔"
ہرقل: "کیا یہ بات اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کبھی کہی تھی؟"
ابوسفیان: "نہیں۔"
ہرقل: "کیا اس کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟"
ابوسفیان: "نہیں۔"
ہرقل: "بڑے لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا کمزوروں نے؟"
ابوسفیان: "بلکہ کمزوروں نے۔"
ہرقل: "اس کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟"
ابوسفیان: "بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔"
ہرقل: "کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص مرتد بھی ہو جاتا ہے؟"
ابوسفیان: "نہیں۔"
ہرقل: "کیا دعویٰ نبوت سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟"
ابوسفیان: "نہیں۔"
ہرقل: "کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟"
ابوسفیان: "نہیں، البتہ ہم اس وقت اس کے ساتھ صلح کی مدت گزار رہے ہیں، معلوم نہیں وہ کیا کرے گا۔"
ہرقل: "کیا تم نے اس سے جنگ لڑی ہے؟"
ابوسفیان: "جی ہاں۔"
ہرقل: "جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟"
ابوسفیان: "جنگ برابر کی چوٹ ہے، کبھی وہ ہمیں نقصان پہنچاتا ہے اور کبھی ہم اسے۔"
ہرقل: "وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے؟"
ابوسفیان: "وہ کہتا ہے صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو، نماز پڑھو، سچ بولو اور پاک دامن رہو۔"
ہرقل کا تجزیہ:
ہرقل نے کہا: "میں نے نسب پوچھا، تم نے کہا اونچا ہے۔ پیغمبر ہمیشہ اونچے نسب میں بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا پہلے کسی نے یہ بات کہی؟ تم نے کہا نہیں۔ اگر ہوتی تو میں کہتا یہ نقالی ہے۔ میں نے پوچھا کیا کوئی بادشاہ گزرا؟ تم نے کہا نہیں۔ ورنہ میں کہتا وہ بادشاہت کا طالب ہے۔ میں نے پوچھا کیا وہ جھوٹ بولتا تھا؟ تم نے کہا نہیں۔ جو بندوں پر جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر کیسے بولے گا؟ میں نے پوچھا کیا کوئی مرتد ہوتا ہے؟ تم نے کہا نہیں۔ ایمان کی خوشی جب دل میں سما جائے تو نہیں نکلتی۔
اگر تمہاری باتیں سچ ہیں تو وہ جلد اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جہاں میرے قدم ہیں۔ کاش میں اس کے پاس جا سکتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔"
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خط:
پھر خط منگوایا گیا جس میں لکھا تھا:
"شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے ہرقل عظیمِ روم کے نام۔ اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہو جا محفوظ رہے گا۔ اگر نہ مانا تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہو گا۔۔۔"
ابنِ ناطور کا بیان:
ابنِ ناطور کہتا ہے کہ ہرقل نجومی تھا۔ اس نے ستاروں میں دیکھا کہ "ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ظاہر ہو چکا ہے۔" پھر اسے معلوم ہوا کہ عرب ختنہ کرتے ہیں۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی وہ نبی ہیں، تو اس نے روم کے سرداروں کو جمع کیا اور کہا: "اے رومیو! اگر کامیابی چاہتے ہو تو اس نبی کی بیعت کر لو۔"
وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بھاگے لیکن دروازے بند تھے۔ ہرقل نے انہیں واپس بلایا اور کہا: "میں تو صرف تمہارا امتحان لے رہا تھا۔" تب انہوں نے اسے سجدہ کیا اور راضی ہو گئے۔
فائدہ (تشریح):
ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو "ابو کبشہ" کی طرف منسوب کیا ہے۔ عرب میں جب کسی کا مذاق اڑانا ہوتا تو اسے کسی گمنام شخص کی طرف منسوب کر دیتے۔ اصل میں "ابو کبشہ" عرب کا ایک شخص تھا جس نے بتوں کی پوجا چھوڑ کر "شعریٰ" ستارے کی پوجا شروع کر دی تھی۔ چونکہ اس نے نیا دین اختیار کیا تھا، اس لیے ہر وہ شخص جو نیا دین لاتا، اسے "ابن ابی کبشہ" کہہ کر پکارا جاتا۔ ابوسفیان نے یہاں تحقیر کے طور پر یہ لفظ استعمال کیا۔
Narrated Abul-Yaman Al-Hakam bin Nafi', who said Shu'aib informed us, from Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn-e-Abbas, from Abu Sufyan bin Harb.
Explanation (Tashreeh):
Abu Sufyan referred to the Prophet (S.A.W) as "Ibn Abi Kabsha". In Arab tradition, to mock someone or show contempt, they would attribute him to an unknown or obscure person. "Abu Kabsha" was a man in Arab history who abandoned idol worship and started worshipping the "Sirius" star. Since he adopted a new religion differing from his people, anyone who brought a new religion was mockingly called "Son of Abu Kabsha". Abu Sufyan used this term to belittle the Prophet at that time.
Reference: Sahih Al-Bukhari, Book 1, Hadith 7