Sahih Al-Bukhari
Hadees Number 5
Humein hadees sunayi Musa bin Ismail ne, unhone kaha humein hadees sunayi Abu Awanah ne, unhone kaha humein hadees sunayi Musa bin Abi Aisha ne, unhone kaha humein hadees sunayi Saeed bin Jubair ne, unhone Hazrat Ibn-e-Abbas (Raziallahu Anhu) se.
Faida (Tashreeh):
Nuzool-e-Wahi ke waqt Aap (S.A.W.) teen tarah ki mushaqqatein (hardships) bardasht karte the:
1. Ek ye ke Aap qaul-e-saqeel (bhaari baat) sun rahe hote.
2. Dusre zaban-e-mubarak ko jaldi-jaldi harkat dete (yaad karne ke liye).
3. Teesre iske matlab-o-ma'ani (meanings) bhi mehfooz farma rahe hote the.
Lekin jab Allah Ta'ala ne in tamam baton ki zimmedari khud le li, to Aapka hafiza itna mazboot (strong) ho gaya ke Jibreel (A.S.) lambi-lambi suratein padhte aur Aap unhein sukoon se sunte, aur unke jane ke baad Aap unhein waise hi padh lete jaise Jibreel (A.S.) ne padha hota.
1. Ek ye ke Aap qaul-e-saqeel (bhaari baat) sun rahe hote.
2. Dusre zaban-e-mubarak ko jaldi-jaldi harkat dete (yaad karne ke liye).
3. Teesre iske matlab-o-ma'ani (meanings) bhi mehfooz farma rahe hote the.
Lekin jab Allah Ta'ala ne in tamam baton ki zimmedari khud le li, to Aapka hafiza itna mazboot (strong) ho gaya ke Jibreel (A.S.) lambi-lambi suratein padhte aur Aap unhein sukoon se sunte, aur unke jane ke baad Aap unhein waise hi padh lete jaise Jibreel (A.S.) ne padha hota.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں موسیٰ بن ابی عائشہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: "لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ" (ترجمہ: اے نبی! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی (وحی آتے وقت) بہت مشقت (تکلیف/محنت) برداشت کرتے تھے اور آپ (یاد کرنے کی کوشش میں) اپنے ہونٹ مبارک کو ہلایا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: "میں تمہارے سامنے اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔"
(اسی طرح) سعید بن جبیر (جو ابن عباس کے شاگرد ہیں) نے کہا: "میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح میں نے ابن عباس کو ہلاتے ہوئے دیکھا"، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔
(حضرت ابن عباس نے فرمایا): اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:
"لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ. إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ."
(ترجمہ: آپ اس وحی کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ بیشک اسے (آپ کے سینے میں) جمع کرنا اور پڑھا دینا ہماری ذمہ داری ہے)۔
یعنی: آپ کے سینے میں محفوظ کر دینا اور (زبان سے) پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔
پھر اللہ کے اس ارشاد: "فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ" (ترجمہ: پھر جب ہم اسے پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھنے کی پیروی کریں) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
"یعنی آپ خاموشی سے کان لگا کر سنتے رہیں۔"
پھر اس ارشاد: "ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ" (ترجمہ: پھر اس کا بیان کرنا (سمجھانا) بھی ہمارے ذمہ ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
"پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔"
اس کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تو آپ (صرف) کان لگا کر سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو آپ (اللہ کے وعدے کے مطابق) اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے پڑھا ہوتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی (وحی آتے وقت) بہت مشقت (تکلیف/محنت) برداشت کرتے تھے اور آپ (یاد کرنے کی کوشش میں) اپنے ہونٹ مبارک کو ہلایا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: "میں تمہارے سامنے اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔"
(اسی طرح) سعید بن جبیر (جو ابن عباس کے شاگرد ہیں) نے کہا: "میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح میں نے ابن عباس کو ہلاتے ہوئے دیکھا"، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔
(حضرت ابن عباس نے فرمایا): اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:
"لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ. إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ."
(ترجمہ: آپ اس وحی کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ بیشک اسے (آپ کے سینے میں) جمع کرنا اور پڑھا دینا ہماری ذمہ داری ہے)۔
یعنی: آپ کے سینے میں محفوظ کر دینا اور (زبان سے) پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔
پھر اللہ کے اس ارشاد: "فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ" (ترجمہ: پھر جب ہم اسے پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھنے کی پیروی کریں) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
"یعنی آپ خاموشی سے کان لگا کر سنتے رہیں۔"
پھر اس ارشاد: "ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ" (ترجمہ: پھر اس کا بیان کرنا (سمجھانا) بھی ہمارے ذمہ ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:
"پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔"
اس کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تو آپ (صرف) کان لگا کر سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو آپ (اللہ کے وعدے کے مطابق) اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے پڑھا ہوتا۔
فائدہ (تشریح):
نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین طرح کی مشقتیں برداشت کرتے تھے:
1. ایک یہ کہ آپ قول ثقیل (بھاری بات) سن رہے ہوتے۔
2. دوسرے زبان مبارک کو جلدی جلدی حرکت دیتے (یاد کرنے کے لیے)۔
3. تیسرے اس کے مطلب و معنی بھی محفوظ فرما رہے ہوتے تھے۔
لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کی ذمہ داری خود لے لی، تو آپ کا حافظہ اتنا مضبوط ہو گیا کہ جبرائیل علیہ السلام لمبی لمبی سورتیں پڑھتے اور آپ انہیں سکون سے سنتے، اور ان کے جانے کے بعد آپ انہیں ویسے ہی پڑھ لیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے پڑھا ہوتا۔
1. ایک یہ کہ آپ قول ثقیل (بھاری بات) سن رہے ہوتے۔
2. دوسرے زبان مبارک کو جلدی جلدی حرکت دیتے (یاد کرنے کے لیے)۔
3. تیسرے اس کے مطلب و معنی بھی محفوظ فرما رہے ہوتے تھے۔
لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کی ذمہ داری خود لے لی، تو آپ کا حافظہ اتنا مضبوط ہو گیا کہ جبرائیل علیہ السلام لمبی لمبی سورتیں پڑھتے اور آپ انہیں سکون سے سنتے، اور ان کے جانے کے بعد آپ انہیں ویسے ہی پڑھ لیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے پڑھا ہوتا۔
Narrated Musa bin Ismail, who said Abu Awanah narrated to us, who said Musa bin Abi Aisha narrated to us, who said Saeed bin Jubair narrated to us, from Ibn-e-Abbas (R.A).
Explanation (Tashreeh):
At the time of revelation, the Prophet (S.A.W) used to face three types of hardships:
1. He was receiving a 'heavy word' (Qaul-e-Saqeel).
2. He used to move his tongue quickly (to memorize it).
3. He was trying to preserve its meanings as well.
But when Allah took the responsibility of all these things upon Himself, the Prophet's memory became so strong that Gabriel (A.S.) would recite long Surahs and the Prophet would listen to them calmly, and after Gabriel left, he would recite them exactly as Gabriel had recited.
1. He was receiving a 'heavy word' (Qaul-e-Saqeel).
2. He used to move his tongue quickly (to memorize it).
3. He was trying to preserve its meanings as well.
But when Allah took the responsibility of all these things upon Himself, the Prophet's memory became so strong that Gabriel (A.S.) would recite long Surahs and the Prophet would listen to them calmly, and after Gabriel left, he would recite them exactly as Gabriel had recited.
Reference: Sahih Al-Bukhari, Book 1, Hadith 5